اسٹاک مارکیٹ سے متعلق خبریں اور تجزیہ(انفلیشن، آئ۔آئ۔پی، ایف۔آر۔ڈی۔آئ بِل، کروڈ آئل کی قیمت، ایس۔ای۔بی۔آئ کے نوٹیفیکیشن کا اسٹاک مارکیٹ پر اثر)

خبر نمبر 1 : بھارت میں اس سال مہنگائ کی شرح جسے ہم اِنفلیشن بھی کہتے ہیں وہ بڑھ کے 4.88 فیصد ہو گئ ہے۔ تو یہاں میں ایک بات بتانا چاہوں گا کہ اس سال آر۔بی۔آئ (جو بھارت کا مرکزی بینک ہے) اُس کا اِنفلیشن کا ٹارگٹ 4 فیصد ہے اور جبکہ بھارت میں مہنگائ کی شرح بڑھ کے 4.88 فیصد ہو گئ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مہنگائ کی شرح آر۔بی۔آئ کے ٹارگٹ سے 0.88 فیصد بڑھ گئ ہے یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مہنگائ کی شرح آر۔بی۔آئ کے کمفرٹ زون سے باہر نکل گئ ہے۔ آر۔بی۔آئ نے ایک بیان دیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ مہنگائ کی شرح مزید بڑھنے کی اُمید ہے۔آر۔بی۔آئ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مہنگائ کی شرح کمفرٹ زون سے اُپر رہنے کی اُمید ہے۔

خبر نمبر 2 : بھارت کا آئ۔آئ۔پی جسے ہم انڈیکس آف انڈسٹریل پروڈکشن کہتے ہیں وہ کم ہو کر 2.2 فیصد پر آگئ ہے۔

ہم خبر نمبر 1 اور خبر نمبر 2 کو ملاکر دیکھیں گے کہ اِن دونوں خبروں کا اسٹاک مارکیٹ یا ہماری انویسٹمینٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

جیسے ہم جانتیں ہیں کہ انفلیشن بڑھنے سے انٹرسٹ ریٹ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر انٹرسٹ ریٹ بڑھتا ہے تو اُس کی وجہ سے اُس مُلک کے گروتھ ریٹ(جسے ہم جی۔ڈی۔پی بھی کہتے ہیں اور جی۔ڈی۔پی کے ذریعے ہم کسی بھی ملک کی معیشت کے طاقتور یا کمزور ہونے کا اندازہ لگا سکتے ہیں)، اُس پر فرق پڑھتا ہے۔ اگر گروتھ ریٹ پر فرق پڑے گا تو یہ اسٹاک مارکیٹ کے لۓ اچھی خبر نہیں سمجھی جاۓ گی۔ 

اگر آئ۔آئ۔پی(انڈیکس آف انڈسٹریئل پروڈکشن) کم ہو رہا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ انڈسٹریئل ڈیمانڈ کم ہو رہی یعنی انڈسٹریز کے پاس آرڈر کم ہو رہے ہیں۔ اگر کسی بھی کمپنی کی پروڈکشن ڈیمانڈ کم ہو گی تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کمپنی کی گروتھ پر فرق پڑے گا۔ اگر کمپنی کی گروتھ پر فرق پڑے گا تو اس کی وجہ سے کمپنی کے منافعے(پرافٹ ایبیلٹی) پر فرق پڑے گا۔ اگر کمپنی کی منافعے(پرافٹ ایبیلٹی) پر فرق پڑے گا تو اس کی وجہ سے اُس کمپنی کے اسٹاک پرائیس پر فرق پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کمپنی کی سہہ ماہی فائنینشل رپورٹ(جسے ہم کواٹرلی فائنینشل رپورٹ بھی کہتے ہیں) اُس کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

اگر انفلیشن بڑھ جاۓ اور آئ۔آئ۔پی(انڈیکس آف انڈسٹریئل پروڈکشن) کم ہو جاۓ تو اِن دونوں چیزوں کا اسٹاک ایکسچینج پر منفی اثر پڑے گا۔

خبر نمبر 3: پچھلے کچھ دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ بینکنگ اسٹاک کافی دباؤمیں ہیں۔ اُس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ بھارتی گورنمنٹ نے ایف۔آر۔ڈی۔آئ بِل اپنی پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے اور اِس ایف۔آر۔ڈی۔آئ بِل میں گورنمنٹ نے ایک پرویژن(شِق) ڈالی ہے جِس میں کہا گیا ہے کہ وہ بینک جن کی مالی حالت درست نہیں ہے اُن کو بیل اِن کیا جاۓ گا۔ پہلے گورنمنٹ جن بینکوں کی مالی حالت درست نہیں ہوتی تھی انہیں بیل آؤٹ(یعنی اُن بینکوں کی مالی معاونت) کرتی تھی۔

بیل اِن اور بیل آؤٹ اِن دونوں ٹرمز میں یہ فرق ہے کہ جن اداروں سے گورنمٹ پیسے لیتی ہے اُسے ہم بیل اِن کہتے ہیں اور جن اداروں کو گورنمنٹ پیسے دیتی ہے اُسے ہم بیل آؤٹ کہتے ہیں۔ بیل آؤٹ کی ایک مثال یہ ہے کہ جیسے بینکوں کی ری کیپیٹل آئیزیشن ہوئ تھی تو گورنمنٹ نے اپنا پیسہ اُن بینکوں میں رکھ کے اُن کی مالی حالت کو مزید بہتر کیا۔

اب بجاۓ اِسکے کہ گورنمنٹ اُن بینکوں کو بیل آؤٹ دے اور اُن بینکوں کی مالی معاونت کرے جن کی مالی حالت درست نہیں ہے، اُلٹا گورنمنٹ نے ایف۔آر۔ڈی۔آئ بِل کے ذریعے اُن بینکوں کو بیل اِن کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف معاشی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اگر ایف۔آر۔ڈی۔آئ بِل پارلیمنٹ سے منظور ہو گیا تو جن بینکوں کی مالی حالت درست نہیں ہے اُن بینکوں کو انویسٹرز کے ڈیپازٹ کے ذریعے بیل اِن کیا جاۓ گا۔ تو جن انویسٹرز کے ڈیپازٹ بینکوں میں جمع  ہیں، اُن کے دل میں یہ ڈر بیٹھ گیا ہے کہ اگر بینکوں کی مالی حالت درست نہ ہوئ تو اُن بینکوں کو انویسٹرز کے بینک ڈیپازٹ کے ذریعے بیل اِن کیا جاۓ گا اور اس کی وجہ سے انویسٹرز کے بینک ڈیپازٹ کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ بینکنگ سیکٹر کے اسٹاکس کے لۓ منفی خبر ہے، اس لۓ جب سے یہ خبر آئ ہے اُس وقت سے بینکنگ سیکٹر کے اسٹاکس کافی دباؤ میں ہیں۔

بینکوں میں کم از کم ایک لاکھ تک کے ڈیپازٹ کی انشورنس ہوتی ہے ایک کلاز کے ذریعے، تو ایف۔آر۔ڈی۔آئ بِل میں ایک پرویژن(شِق) ہے جس کے تحت اِس انشورنس والی کلاز کو ریپیل(یعنی ختم) کرنے کی بات کی گئ ہے۔ اگر ایف۔آر۔ڈی۔آئ بِل پارلیمنٹ سے منظور ہو گیا تو اِس کا مطلب یہ ہو گا کہ انویسٹرز کے بینک ڈیپازٹ کی انشورنس نہیں ہے۔ گورنمنٹ نے انویسٹرز کو یقین دہانی کروائ ہے کہ اگر کسی بینک کی مالی حالت درست نہ ہوئ تو گورنمنٹ اُس بینک کو بیل آؤٹ کے ذریعے اُس کی مالی معاونت کرے گی۔ تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ ایف۔آر۔ڈی۔آئ بِل میں بیل اِن والی کلاز بینکنگ سیکٹر کے اسٹاکس کے لۓ منفی خبر ہے اور یہی وجہ ہے کہ بینکنگ سیکٹر کے اسٹاکس پچھلے کچھ دنوں سے کافی دباؤ میں ہیں۔

خبر نمبر 4: بھارت میں پیسنجر وہیکل کی سیل میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

خبر نمبر 4 کا آٹو اسٹاکس پر مصبت اثر ہونا چاہیۓ، لیکن انویسٹرز کو یہ خبر سُن کے زیادہ خوش نہیں ہونا چاہۓ کیوں کہ خبر نمبر 4 میں اس سال نومبر کا پچھلے سال نومبر سے موازنہ کیا گیا ہے اور موازنہ کے بعد اس سال نومبر میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ پچھلے سال نومبر میں ڈی مونیٹائیزیشن کی وجہ سے پیسنجر وہیکل کی سیل میں کمی آئ تھی، تو ڈی مونیٹائیزیشن کی وجہ سے پچھلے سال نومبر میں پیسنجر وہیکل کی سیل نارمل گروتھ سے نیچے رہی تھی اور اسی وجہ سے موازنے کے بعد اس سال نومبر کی سیل میں کافی اضافہ دکھائ دے رہا ہے۔ اس کو ہم لو بیس افیکٹ کہتے ہیں اور لو بیس افیکٹ کی وجہ سے ہمیں پیسنجر وہیکل کی سیل میں 14 فیصد اضافہ دکھائ دے رہا ہے۔ لیکن اسٹاک ایکسچینج میں سینٹی مینٹس بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ تو پیسنجر وہیکل کی سیل میں 14 فیصد کا اضافہ اسٹاک ایکسچینج کے آٹو سیکٹر میں مصبت سینٹی مینٹس کا کام کر سکتا ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ یہ 14 فیصد کا اضافہ لو بیس افیکٹ کی وجہ سے ہے اس لۓ اسٹاک ایکسچینج کے آٹو اسٹاکس پر اس خبر کا کوئ خاص اثر نہیں پڑے گا۔

خبر نمبر 5: ایئر ٹل کمپنی اپنے ڈی۔ٹی۔ایچ آرم کا 20 فیصد حصہ(شیئرز) بیچنے جا رہی ہے۔ یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایئر ٹل کمپنی یہ 20 فیصد حصہ(شیئرز) بیچ کے جو پیسہ ملے گا اُس سے اپنے ٹیلی کام بزنس  کاڈیٹ(قرضہ) کم کرنے میں استعمال کرے گی، جس کی وجہ سے ایئر ٹل کمپنی کا انٹرسٹ آؤٹ فلو اور لائیبلٹیز کم ہو جائیں گی اور ایئر ٹل کمپنی کے پرافٹ مارجن(منافعے) پر ایک مصبت اثر پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ ایک مصبت خبر ہے کیونکہ اگر کوئ کمپنی اپنا ڈیٹ(قرضہ) کم کرتی ہے تو تجزیہ کار اس کو مصبت طریقے سے دیکھتے ہیں۔

خبر نمبر 6: انڈیگو ایئر لائن کے پروموٹرز(مالک) اپنی کمپنی انڈیگو ایئر لائن کا 2.91 فیصد اسٹیک(شیئرز یا ہولڈنگ) بیچنے جا رہے ہیں۔ اگر پروموٹرز(مالک) اپنا اسٹیک(شیئرز یا ہولڈنگ) بیچتے ہیں تو تجزیہ کار اس کو منفی طریقے سے دیکھتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگر میری کوئ کمپنی ہے اور میں اپنی کمپنی کے اسٹیک(شیئرز یا ہولڈنگ) بیچ رہا ہوں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ میں اپنی کمپنی کے گروتھ پراسپیکٹ کے اُپر زیادہ بُلش نہیں ہوں یا مجھے ایسا نہیں لگتا کے میری کمپنی بہت زیادہ گرو کر سکتی ہے۔ اگر پروموٹرز(مالک) اپنی کمپنی کے اسٹیک(شیئرز یا ہولڈنگ) بیچتے ہیں تو اُس کے پیچھے ضرور کوئ وجہ ہوتی ہے اور وہ وجہ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اُس کمپنی کے اسٹاک کا تجزیہ کرنے کے لۓ۔ لیکن انڈیگو ایئر لائن کے پروموٹرز(مالک) اپنی کمپنی  کا 2.91 فیصد اسٹیک(شیئرز یا ہولڈنگ) کیوں بیچ رہے ہیں، ابھی تک اس کی کوئ وجہ سامنے نہیں آئ۔ اگر پروموٹرز اپنا اسٹیک بیچ کہ وہی پیسہ کمپنی کی گروتھ میں لگائیں تو یہ خبر اس کمپنی کے اسٹاک کے لۓ مصبت خبر ہو گی کیونکہ پروموٹرز اُس پیسے کا استعمال کمپنی کی گروتھ میں کر رہے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پروموٹرز اپنی کمپنی کی گروتھ کے لۓ کافی بُلش ہیں اور پروموٹرز کو کافی اُمید ہے کہ اُن کی کمپنی آنے والے وقت میں کافی گرو کرسکتی ہے ۔

خبر نمبر 7: کروڈ آئل کی قیمت 65 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گئ ہے۔ اگر کروڈ آئل کی قیمت بڑھے گی تو اس کی وجہ سے مہنگائ کی شرح(انفلیشن) بھی بڑھے گی۔ کروڈ آئل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے اسٹاکس پر منفی اثر پڑے گا۔ جب سے کروڈ آئل کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوا ہے، اُس وقت سے  بھارت کی مشہور آئل مارکیٹنگ کمپنیز  جیسے ایچ۔پی۔سی۔ایل یا بی۔پی۔سی۔ایل کے اسٹاکس کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئ ہے۔  لیکن دُوسری طرف کروڈ آئل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے آئل ایکسپلوریشن کمپنیز کے اسٹاکس پر مصبت اثر پڑھتا ہے۔ جب سے کروڈ آئل کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اُس وقت سے بھارت کی مشہور آئل ایکسپلوریشن کمپنی او۔این۔جی۔سی کے اسٹاک کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کروڈ آئل کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائ کی شرح(انفلیشن) کو کنٹرول کرنے کے لۓ گورنمنٹ کو  پیٹرولیم مصنوعات پر لگاۓ گۓ ٹیکسس میں کمی کرنی چاہۓ۔

خبر نمبر 8: ایس۔ای۔بی۔آئ(سکیورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا) کی طرف سے ایک نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آئ۔پی۔او کے دوران کمپنیز کی اسٹاک ایکسچینج میں لِسٹنگ کا وقت  پہلے 6 دن ہوا کرتا تھا، جو اب کم کر کے 4 دن کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کی نظر میں کمپنیز کی اسٹاک ایکسچینج میں لِسٹنگ کا وقت کم کرنا ایک اچھی خبر ہے کیونکہ اِس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں جو کمپنی لسٹ ہونے جارہی ہے، اُس کے اسٹاک سے متعلق اسپیکولیشن(افواہیں) زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔

خبر نمبر 9: بی۔ایس۔ای نے یکم جنوری سے  مُوچُول فنڈز میں جو بھی انویسٹمنٹ ہو گی، اُسے شناختی کارڈ کے ساتھ لنک کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئ انویسٹر مُوچُول فنڈز میں انویسٹ کرنا چاہ رہا ہے تو اُسے انویسٹمنٹ کرتے وقت اپنا شناختی کارڈ نمبر دینا لازمی ہو گا۔

خبر نمبر 10: اقوامِ متحدہ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ بھارت کی معیشت سال 2018 میں 7.2 فیصد سے گرو کرے گی، یعنی بھارت کا گروتھ ریٹ سال 2018 میں 7.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ اسٹاک مارکیٹ کے انویسٹرز کے لۓ ایک اچھی خبر ہے اور اِس خبر کا اسٹاک ایکسچینج پر مصبت اثر پڑھ سکتا ہے، کیونکہ اگر کسی بھی مُلک کی معیشت 7 فیصد یا اُس سے زیادہ کے حساب سے گرو کرے گی تو یہ اُس ملک کی معیشت کے لۓ ایک مصبت سنگِ میل سابت ہوگا۔

یہ تمام خبریں دسمبر 2017 کی ہیں جو کہ بھارت کے مختلف اخباروں سے لی گئ ہیں۔ ان تمام خبروں کا مقصد آپ کو اسٹاک ایکسچینج سے متعلق آگہی فراہم کرنا ہے۔

Comments